امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی کا خطابِ عام 11 اکتوبر کو پٹنہ میں

پٹنہ، 9 اکتوبر 2026:

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی 11 اکتوبر، بروز اتوار، پٹنہ کے انجمن اسلامیہ ہال میں ایک خطابِ عام سے خطاب کریں گے۔ پروگرام بعد نمازِ مغرب منعقد ہوگا، جس کا عنوان’تعمیرِ ملک و ملت اور ہماری ذمہ داریاں‘ مقرر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک کی موجودہ سماجی و معاشرتی صورتِ حال، قومی و ملی مسائل، معاشرتی اصلاح اور انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو متوقع ہے۔

اس سلسلے میں جماعت اسلامی ہند، بگ سٹی پٹنہ کے ناظمِ شہر محمد لئیق الزماں نے بتایا کہ پروگرام کا مقصد موجودہ حالات کے تناظر میں ملک و ملت کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے سماجی و معاشرتی حالات میں شہریوں، بالخصوص نوجوانوں، کی ذمہ داریوں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار پر گفتگو کی ضرورت ہے۔

محمد لئیق الزماں کے مطابق ملک کو درپیش مختلف سماجی، تعلیمی اور اخلاقی مسائل کے پیشِ نظر باہمی تعاون، سماجی ہم آہنگی، تعلیم کے فروغ اور معاشرتی اصلاح جیسے موضوعات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر بامقصد مکالمہ اور مختلف طبقات کے درمیان مثبت رابطہ معاشرے کی بہتری کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سید سعادت اللہ حسینی ایک معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور دانشور ہیں، جو دینی، سماجی، فکری اور عصری موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں اور خطابات میں اسلامی فکر، اخلاقی اقدار، سماجی اصلاح، تعلیم و تربیت اور قومی و ملی مسائل جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔

ناظمِ شہر نے مزید کہا کہ مجوزہ خطاب میں تعمیرِ ملک و ملت کے تصور کو موجودہ حالات سے جوڑتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالے جانے کی توقع ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات ملک کی ترقی، سماجی انصاف، امن و ہم آہنگی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کس نوعیت کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم، اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری اور شہریوں کے درمیان باہمی اعتماد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ان موضوعات پر عوامی سطح پر تبادلہ خیال نہ صرف مسائل کو سمجھنے بلکہ ان کے حل کے لیے تعمیری نقطہ نظر اختیار کرنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

محمد لئیق الزماں نے نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین سے شرکت کی اپیل کی۔