پٹنہ: 19 اکتوبر، 2026
مرکز اسلامی میں جماعت اسلامی ہند، پٹنہ اور ادارہ ادب اسلامی ہند، پٹنہ کے زیر اہتمام اتوار کوجماعت اسلامی ہند کے سابق رکن مرحوم ابو نصر فاروق کے تعلق سے ایک تعزیتی جلسہ کااہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انسان کے انتقال کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین ذرائع کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا گو رہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ فاروق صاحب اپنے پیچھے یہ تینوں سرمائے وافر مقدار میں چھوڑ کر گئے ہیں۔
امیر حلقہ نے کہا کہ مرحوم نے 2001ء تک جماعت کے کئی اہم مناصب سنبھالے، جن میں ناظمِ علاقہ، مجسل شوریٰ پٹنہ کی رکنیت،بلاسودی سوسائٹی کی نظامت اور دفتر میں آفس سکریٹری کے امور شامل ہیں۔
رضوان احمد نے کہا کہ بالخصوص شمالی بہار میں نئے افراد کی تیاری، ان کی نظریاتی آبیاری اور تنظیم کی توسیع میں مرحوم ابو نصر فاروق کا کردار سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے جانے سے پٹنہ شہر کے علمی حلقہ میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔
امیرِ حلقہ نے پٹنہ میں اپنے قیام کے دورکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فاروق صاحب نے نئی نسل کے ساتھ ہمیشہ ایک شفیق استاد کی طرح برتاؤ کیا۔ جب مجھے تنظیمی ذمہ داریاں سونپی گئیں تو انہوں نے دل کھول کر حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے کہا کہ فاروق صاحب کسی روایتی دینی درسگاہ کے فارغ التحصیل یا رسمی عربی داں عالم نہیں تھے، اس کے باوجود ان کے اندر ایک عالم اور داعی جیسی صفات پائی جاتی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نوجوانی ہی میں (داڑھی آنے سے قبل) خود کو حلقہ طلبہ سے وابستہ کیا اور تقریباً 1980ء میں باضابطہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ ان کا دینی شعور اورمذہبی رکھ رکھاؤاعلیٰ درجہ کا تھا جو انہوں نے تحریکی تربیت کے ذریعے حاصل کی۔ اگر جماعت اور حلقہ طلباء اور جماعت کا نصب العین اقامت دین کو فاروق صاحب سے علیحدہ کر دیجئے تو فاروق صاحب آپ کو بس ایک عام مسلمان معلوم ہوں گے۔ یہی اقامت دین کا نصب العین ہے جس کی وجہ سے وہ فرد کا ارتقاء اور معاشرے کی تعمیر جیسے فریضے کو آخری سانس تک انجام دیتے رہے۔
امیر حلقہ نے کہا کہ تعزیتی جلسہ، قبرستان اور موت کا تذکرہ دراصل انسان کو اپنی موت کی یاد دلاتا ہے۔ آج کے دن ہم لوگوں کو اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے کیوں کہ اسی راستے پر ہم سب کو جانا ہے۔
تعزیتی جلسہ میں بزرگوں سے لے کر نوجوانوں تک20 سے زیادہ لوگوں نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ تمام شرکاء نے بلا اختلاف مرحوم کے بلند پایہ اخلاق اور دعوتی واصلاحی خدمات کی ایک زبان ہو کر توثیق کی۔
جلسہ میں مرحوم کے اہل خانہ، پوتوں، نواسوں، تلامذہ، پٹنہ سینٹرل، ایسٹ اور ویسٹ کے مقامی امراء سمیت دیگر شرکابھی موجود تھے۔
جلسہ کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت، بشری کمزوریوں کی درگزر اور جنت الفردوس میں بلندیِ درجات کے لیے دعا کی گئی۔
سکریٹری جماعت اسلامی ہند بہار نثار احمدنے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔
پروگرام کی نظامت پروفیسر کامران غنی صبا نے کی۔ کلمات تشکر جناب کامل رضا نے پیش کیے۔
