پٹنہ: 12 اکتوبر، 2026
جماعت اسلامی ہند، بہار کی جانب سے انجمن اسلامیہ ہال میں منعقدہ سہ روزہ آل بہار اجتماع ارکان پیر کو اختتام پذیر ہوگیا۔ اس موقع پر ’تعمیر ملک و ملت اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے اپنے خطاب عام میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کی ذمہ داری صرف اپنی قوم کی ترقی اور فلاح و بہبود تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے تمام 140 کروڑ باشندوں کی بھلائی، انصاف، مساوات اور خوش حالی کے لیے جدوجہد کرنا ان کا دینی اور سماجی فریضہ ہے۔ اسلام پوری انسانیت کی فلاح کا پیغام دیتا ہے اور امت مسلمہ کو اسی وسیع مقصد کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کئی اعتبار سے تشویش ناک ہیں اور امت مسلمہ مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔ تاہم ان حالات میں مایوسی، خوف اور شکایت کے بجائے مثبت سوچ، عملی جدوجہد اور تعمیری کردار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حالات کا ماتم کرنے سے حالات نہیں بدلتے، بلکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی اور مسلسل کوشش ضروری ہے۔
انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی اور ہر بڑے چیلنج کے ساتھ نئے مواقع وابستہ ہوتے ہیں۔ قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ مشکل حالات ہی میں نئی قیادت، نئی سوچ اور ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ کسی قوم کے حالات اس وقت تک نہیں بدل سکتے جب تک وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔ ہمیں اپنی سوچ، کردار، اجتماعی مزاج، ترجیحات اور مقاصد کو بدلنا ہوگا۔ صرف حالات بدلنے کی خواہش کافی نہیں، بلکہ خود کو تبدیلی کا اہل بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے خواب اور نصب العین بلند کرنے ہوں گے۔ مسلمانوں کی تعلیم، معاشی ترقی، سماجی تحفظ اور انصاف کے لیے جدوجہد یقیناً ضروری ہے، لیکن ہماری فکر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دلتوں، آدی واسیوں، کسانوں، مزدوروں، غریبوں، نوجوانوں اور جنریشن زی سمیت ہر طبقے کی جائز امنگوں اور ضروریات کی تکمیل کے لیے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہر ہندوستانی کو انصاف، مساوات، عزت اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی جدوجہد ہی ملک و ملت کی حقیقی تعمیر کا راستہ ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ قرآن مجید نے امت مسلمہ کو خیر امت اور امت وسط قرار دیا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ مسلمان پوری انسانیت کے لیے خیر خواہی، عدل اور اعتدال کا نمونہ بنیں۔
انہوں نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ محدود مقاصد کے بجائے بڑے خواب دیکھیں، اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں اور ملک کے تمام باشندوں کی فلاح و بہبود کو اپنی زندگی کا مشن بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف اپنی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ پورے ملک کی ترقی، سماجی انصاف اور انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھے۔ یہی سوچ ملک و ملت کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اسی موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہندکے سکریٹری ٹی عارف علی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ایک تعمیر پسندو خیر پسند، متحرک اور ہمہ گیر تحریک ہے، جو بدلتے ہوئے حالات اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی پالیسیوں اور پروگراموں کا مسلسل جائزہ لیتی اور ان میں ضروری تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔ یہی وصف جماعت کو ایک زندہ، فعال اور ارتقا پذیر تنظیم بناتا ہے۔
ٹی عارف علی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کی تشکیل 1948 میں ہوئی اور اس نے ابتدا ہی سے ہندوستان کے مخصوص سماجی، سیاسی اور تہذیبی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسی اور پروگرام مرتب کیے۔ جماعت ہندوستان کے آئین، جمہوری اقدار، سیکولر نظام اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا جمہوری تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ اس میں قیادت کا انتخاب باقاعدہ جمہوری طریقے سے ہوتا ہے۔ مرکزی مجلس نمائندگان، مرکزی مجلس شوریٰ اور امیر جماعت کا انتخابی نظام تنظیم کے اندر مشاورت، جواب دہی اور اجتماعی فیصلوں کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ہر چار سال بعد اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر آئندہ میقات کے لیے نئی پالیسیاں اور عملی پروگرام مرتب کرتی ہے۔ ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک سماجی و سیاسی حالات میں متعدد اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور جماعت نے ہر دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے طریقہ کار میں مناسب تبدیلیاں کی ہیں۔ یہی مسلسل تجدید اور ارتقا جماعت اسلامی کے ترقی پسند ہونے کی دلیل ہے۔
ٹی عارف علی نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ محض ایک مذہبی تنظیم ہے، نہ سیاسی جماعت اور نہ ہی صرف خدمتِ خلق کا ادارہ، بلکہ یہ اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات سمجھتے ہوئے فرد اور معاشرے کی ہمہ جہت اصلاح کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فقہی اور مسلکی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کی قائل ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر کے افراد مشترکہ مقاصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر کام کر سکتے ہیں۔ جماعت مسلمانوں کے درمیان اتحاد، تعلیم کے فروغ، معاشی ترقی، اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں انسانی خدمت، تعلیم، دعوت، کردار سازی اور سماجی فلاح و بہبود کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قدرتی آفات، فسادات اور دیگر مصیبتوں کے مواقع پر جماعت مذہب اور برادری کی تفریق کے بغیر ضرورت مندوں کی مدد کرتی ہے۔
ٹی عارف علی نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کی روحانی، اخلاقی اور فکری تربیت کے ساتھ انہیں معاشرے کے تمام طبقات سے مثبت روابط قائم کرنے اور عوامی مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ایک تعمیر پسندو خیر پسند تحریک ہے جو اپنی بنیادی دینی اقدار پر قائم رہتے ہوئے بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ملک و ملت کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ ملک میں مختلف سماجی، معاشی اور اخلاقی مسائل کے باوجود امید افزا بات یہ ہے کہ نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی (Gen Z)، ملک و ملت کی تعمیر، ترقی اور مثبت تبدیلی کے لیے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور طالبات میں بھی سماجی شعور اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بڑھ رہا ہے، جو ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔
رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی، ناانصافی، تعلیمی پسماندگی، معاشی مشکلات اور اخلاقی زوال جیسے مسائل ضرور موجود ہیں، لیکن ان حالات سے مایوس ہونے کے بجائے نئی نسل کا آگے بڑھنا خوش آئند ہے۔ آج نوجوان، لڑکے، لڑکیاں اور جنریشن زی ملک کی تعمیر و ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے وطن کی خوش نصیبی اور بہتر مستقبل کی نوید ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک کو اپنے گھر اور تمام باشندوں کو ایک خاندان کی طرح سمجھتی ہے۔ جس طرح خاندان کا کوئی فرد پریشانی میں مبتلا ہو تو پورا گھر فکر مند ہوتا ہے، اسی طرح ملک کے مسائل اور عوام کی مشکلات کو محسوس کرنا اور ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، اعلیٰ کردار، اخلاقی اقدار، صلاحیتوں اور جدید علوم سے خود کو آراستہ کریں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم، دیانت داری، کردار کی مضبوطی اور صلاحیت کے ذریعے مشکل حالات کو بھی کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔
امیر حلقہ نے کہا کہ ملک و ملت کی تعمیر محض ایک نعرہ نہیں،بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں اور خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، معاشرے کی اصلاح میں سرگرم کردار ادا کریں اور ملک کی ترقی کے لیے عملی میدان میں آگے آئیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی نسل کا بڑھتا ہوا شعور، مثبت سوچ اور تعمیری جذبہ آنے والے برسوں میں ملک و ملت کے حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خطاب عام کے بعد عمائدین شہر نے جماعت اسلامی ہند کے مرکزی ذمہ داران کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کی۔ اس موقع پر عمائدین شہر نے’بصیرت ایکسپو‘ کا جائزہ لیا اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ایکسپو میں جماعت اسلامی بہار کے تمام شعبوں اور یونٹوں کی کارکردگی اور سرگرمیوں کو گرافکس کے ذریعہ نمائش کی گئی ہے۔ملاقات کرنے اور ایکسپو کا جائزہ لینے والوں میں معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبدالئی،بہار الکٹریسیٹی ریگولیٹری کمیشن کے چیرمین عامر سبحانی، محکمہ اقلیتی فلاح کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر عامر آفاق احمد فیضی،جے ڈی یو ایم ایل سی آفاق احمدخان، آر جے ڈی ایم ایل سی قاری محمد صہیب، بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق کارگزار چیرمین امتیاز احمد کریمی، مارت شریعہ کے ناظم مفتی سعیدالرحمان قاسمی، شیعہ اسکالر مولانا سید امانت حسین، ڈاکٹر عباس مصطفیٰ اورسینئر صحافی ڈاکٹر انوارالہدیٰ سمیت کئی شخصیتیں موجود تھیں۔








پٹنہ کے انجمن اسلامیہ ہال میں جماعت اسلامی ہند، بہار کی طرف سے جاری سہ روزہ اجتماع ارکان 2026کے دوسرے دن 11 اکتوبر کو عمائدین شہرنے’بصیرت ایکسپو‘ کا جائزہ لیا۔جائزہ لینے والوں میں دیگر شخصیتوں کے علاوہ آرجے ڈی کے ایم ایل سی قاری محمد صہیب بھی شامل تھے۔


پٹنہ کے انجمن اسلامیہ ہال میں جماعت اسلامی ہند، بہار کی طرف سے جاری سہ روزہ اجتماع ارکان 2026کے دوسرے دن 11 اکتوبر کو عمائدین شہر کے ساتھ محترم امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی اورمحترم قیم جماعت ٹی عارف علی کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران جے ڈی یو ایم ایل سی آفاق احمدخان، بہار الکٹریسیٹی ریگولیٹری کمیشن کے چیرمین عامر سبحانی، محکمہ اقلیتی فلاح کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر عامر آفاق احمد فیضی، معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبدالئی،بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق کارگزار چیرمین امتیاز احمد کریمی، مارت شریعہ کے ناظم مفتی سعیدالرحمان قاسمی، شیعہ اسکالر مولانا سید امانت حسین، ڈاکٹر عباس مصطفیٰ اورسینئر صحافی ڈاکٹر انوارالہدیٰ سمیت کئی شخصیتیں موجود تھیں۔اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے مہمانوں کا تعارف کرایا۔


محترم امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے پٹنہ کے انجمن اسلامیہ ہال میں جماعت اسلامی ہند، بہار کی طرف سے جاری سہ روزہ اجتماع ارکان 2026کے دوسرے دن 11 اکتوبر کو نئے ارکان کی تجدید شہادت کرائی۔ 2023 سے اب تک 112 نئے ارکان کا اضافہ ہوا ہے جن میں 30 خواتین شامل ہیں۔ اس موقع پر محترم قیم جماعت جناب ٹی عارف علی، سکریٹری مرکز جناب شبیر عالم خان، جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی، سکریٹری حلقہ جناب نثار احمد، مولانا سید لطف اللہ قادری فلاحی، اجتماع ارکان کے کنوینر انجینئر حامد اختر، ڈاکٹر نسیم اخترموجود تھے۔


پٹنہ کے انجمن اسلامیہ ہال میں جماعت اسلامی ہند، بہار کی طرف سے جاری سہ روزہ اجتماع ارکان 2026کے دوسرے دن 11 اکتوبر کو پانچ کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ یہ پانچ کتابیں ہیں —
۱۔ اسلام کس چیز کا علمبردار ہے؟/مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی (ہندی ترجمہ)
۲۔ مسلم امت: منزل اور راستہ /سید سعادت اللہ حسینی
۳۔ زندگانی تھی تیری/مولانا رضوان احمد اصلاحی
۴۔الاحادیث القرآنیہ/سید لطف اللہ قادری فلاحی
۵۔تجلیات کلام نبویﷺ/سید لطف اللہ قادری فلاحی
اس موقع پر محترم امیر جماعت جناب سید سعادت اللہ حسینی، محتم قیم جماعت جناب ٹی عارف علی، سکریٹری مرکز جناب شبیر عالم خان، جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی، سکریٹری حلقہ جناب نثار احمد، مولانا سید لطف اللہ قادری فلاحی، اجتماع ارکان کے کنوینر انجینئر حامد اختر، ڈاکٹر نسیم اخترموجود تھے۔

ارکان اجتماع 2026کے پہلے دن محترم امیر جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حیسنی، قیم جماعت جناب ٹی عارف علی اور امیر حلقہ، جماعت اسلامی ہند، بہار مولانا رضوان احمد اصلاحی نے انجمن اسلامیہ ہال ہال میں مشترکہ طور پر ’بصیرت ایکسپو‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سکریٹری مرکز جناب شبیر عالم خان اور سکریٹری حلقہ جناب نثار احمد سمیت تمام ذمہ داران اور ارکان موجود تھے۔ سبھی نے آویزاں تمام فلیکس کا معائنہ کیا۔

