بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پر جماعت اسلامی نے حکومت اور معاشرے کے لیے تجویز کئے چند اقدام

پٹنہ: 27ستمبر، 2026

جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے جموئی، سمستی پور اور بانکا میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی قابلِ مذمت یہ واقعات اس درندگی کی مثالیں ہیں جو اکثر خواتین اور طالبات کے ساتھ روا رکھی جاتی ہیں۔جموئی اور سمستی پورکے واقعے پر ہم جو غم و غصہ اور کرب دیکھ رہے ہیں وہ بالکل فطری ہے، لیکن اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے اس کی ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے۔ اس کے برعکس، ہم نوعمر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور فقرے بازی سے لے کر زیادتی اور قتل تک کے واقعات کے بارے میں مسلسل پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں، مگر اکثر ان پر اپنے غصے یا تشویش کا اظہار کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے معاملات میں ہماری حسِ بیداری یا حساسیت کی شدید کمی ہے۔

مولانا رضوان احمد نے کہا کہ خواتین اور طالبات کے خلاف جنسی تشدد پر ہماری تشویش صرف جموئی، سمستی پور اور بانکا جیسے واقعات تک محدود نہیں ہونی چاہیے؛ ہمیں ہر جگہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ مزید برآں، اگر تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا کوئی واقعہ پیش آ ہی جائے، تو حکومت کو سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ حکومت اور معاشرہ دونوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکوں اور مردوں پر یہ بات واضح کر دیں کہ نوعمر لڑکیوں اور خواتین کے وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

امیر حلقہ نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے دو طرح کا خوف ضروری ہے۔ اول، اللہ تعالیٰ کا خوف—یعنی یہ یقین کہ وہ ایسے کاموں پر دنیا اور آخرت میں سخت سزا دے گا۔ دوم، لڑکوں اور مردوں تک یہ واضح پیغام پہنچنا چاہیے کہ حکومت اور معاشرہ ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اس قسم کی کسی بھی بدتمیزی یا جرم کے نتیجے میں نہ صرف وہ سماج دشمن عناصر کے طور پر بدنام ہوں گے بلکہ ان کی زندگیاں بھی اجیرن ہو جائیں گی۔ ہم بکسر کے ایک واقعے کا بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں جہاں دو اساتذہ نے نہ صرف سرکاری اسکول کی طالبات کے ساتھ زیادتی کی،بلکہ اس فعل کی ویڈیو بھی وائرل کر دی۔ یہ انتہائی شرمناک اور سنگین صورتحال ہے۔ ایسی صورتحال میں اشد ضرورت ہے کہ حکومت اور معاشرہ اسکولوں اور دیگر مقامات پر ہماری بچیوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے مجرموں کو نہ صرف ملازمتوں سے برطرف کیا جائے بلکہ ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی بھی کی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور اس قسم کے شرمناک واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

مولانا رضوان احمد نے مذکورہ حالات کے پیشِ نظر حکومت اور معاشرے کے لیے چند اقدام تجویز کئے ہیں۔

پہلی تجویز میں انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کے احترام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی اوربیداری لائی جائے۔ والدین کو بھی یہ پیغام پہنچایا جائے کہ وہ اپنے بچوں میں انسانی اقدار پیدا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ لڑکے کسی بھی صورت میں لڑکیوں کے ساتھ کوئی نامناسب رویہ اختیار نہ کریں۔ انہیں لڑکوں پر یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ اگر وہ ایسے افعال کے مرتکب ہوئے تو ان کا دفاع کرنے کوئی نہیں آئے گا۔

دوسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوششیں تیز کی جانی چاہئیں۔جس میں گھر، اسکول اور کالج سے لے کر کام کی جگہیں اور عوامی مقامات شامل ہیں۔ انہیں خود کے دفاع (سیلف ڈیفنس) کی تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔ کم عمر بچیوں کو ”گڈ ٹچ” (اچھے لمس) اور ”بیڈ ٹچ” (برے لمس) کے تصورات کے بارے میں آگاہی دی جائے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی جائے کہ اگر کوئی شخص نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ فوراً اپنے اہل خانہ کو مطلع کریں۔

تیسری تجویز میں کہا کہ لڑکوں اور مردوں کے ذہنوں میں یہ بات واضح طور پر بٹھائی جانی چاہیے کہ تمام لڑکیاں اور خواتین—خواہ وہ خاندان کے اندر ہوں یا باہر، رشتہ دار ہوں یا اجنبی—احترام کی مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا غیر اخلاقی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کا نتیجہ سخت ترین صورت میں نکلے گا۔

چوتھی تجویز میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے واقعات میں فوری کارروائی کے احکامات جاری کرنے چاہئیں اور غفلت برتنے والے حکام کے خلاف سخت کارروائی کر کے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔

پانچویں تجویز میں انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیموں کو متحرک کیا جانا چاہیے تاکہ ایسے مجرموں کو بروقت گرفتار کیا جا سکے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

چھٹی تجویز میں انہوں نے کہا کہ گارجین کو چاہئے کہ وہ بچوں پر سخت نظر رکھیں۔ اسلامی اور ہندوستانی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی پرورش کریں تاکہ کوئی ان کی تربیت پر سوال نہ اٹھائے۔بچے امانت ہیں، اللہ کے یہاں اس کا بھی حساب لیا جائے گا۔

مولانا رضوان احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ والدین اپنی بچیوں کو حیاء اور ہندوستانی معاشرتی اقدار کے تئیں حساس اور بیدار بنائیں۔