پٹنہ: 8جون، 2026
جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے سیوان کے مقتول شہزاد علی کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہ کئے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت کے ناظم اضلاع خورشید امام کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے مقتول کے والد قیام الدین اور بیوہ مبینہ خاتون سے ملاقات کرکے تمام صورت حال سے واقفیت حاصل کی ہے۔ حقائق کے مطابق معاملہ سیوان شہر سے تقریباً بیس کیلو میٹر دور برہڑیا تھانہ علاقہ کے شیوراج پور گاؤں کا ہے۔ اسی گاؤں کا 27سالہ شہزاد علی شادی بیاہ میں باورچی کی ہیلپری اور باقی دنوں میں مزدوری کرتا تھا۔ 30مئی کی صبح کو شہزاد کی جان پہچان کے کچھ لوگ آئے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد اس کی بیوی مبینہ کو کچھ لوگوں نے بتایا کہ اصل ملزم اودھ کشور اوراس کے ساتھی شہزاد کی درخت سے باندھ کر بری طرح پٹائی کر رہے ہیں۔ مبینہ بھاگی بھاگی جائے وقوع پر گئی اور اپنے شوہر کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔
مولانا رضوان احمد نے بتایا کہ شہزاد پر الزام تھا کہ اس نے ملزمین کا موبائل چرا لیا تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا ہوتا کہ چوری کرنے والے کی ماب لنچنگ کرکے اسےمارڈالا جائے۔حالاں کہ بعد میں موبائل چوری کرنے کی بات غلط ثابت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ نمائندہ وفد نے بڑہریا تھانہ کے تھانہ انچارج سے کیس کے متعلق جانکاری حاصل کی۔ تھانہ انچارج نے بتایا کہ سبھی ملزم فرار ہیں۔ ان کے خلاف وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
مولانا رضوان نے بتایا کہ شہزاد علی کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی عمر سات سال سے لےکر آٹھ مہینے تک ہے۔ یہ سبھی بہت ہی بوسیدہ قسم کے مکان میں رہتے ہیں۔ گھر میں کوئی اور کمانے والا نہیں ہے۔ شہزاد کے والد قیام الدین دہلی میں ٹھیلہ پر سبزی فروخت کرتے ہیں۔ بیٹے کی موت کی خبر سن کر گھر آئے ہوئے ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے نوشاد علی کی لاش کچھ دنوں پہلے درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔اس کے بچے بھی یتیم اور بیوی بیوہ ہو چکی ہے۔
مولانا رضوان احمد نے شہزاد علی کے وارثین کو حکومت کی طرف سے معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ۔ ساتھ ہی ملزمین کو بلا تاخیر گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دلانے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند، بہار کی طرف سے پس ماندگان کی حقیر سی مالی امداد کی گئی ہے تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ مقتول کی بیوہ کا تحفظ اور بچوں کی پرورش ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے حل کے لئے سرکار کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اپنا ادا کرنا چاہئے۔
مولانا رضوان احمد اصلاحی نے بہار اقلیتی کمیشن کے چیرمین مولانا غلام رسول بلیاوی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم اقلیتوں کو انصاف دلانے میں سرگرم اور موثر رول ادا کریں۔

