پٹنہ: 14 اپریل، 2026
…………
جماعت اسلامی ہند،پٹنہ شہر کے زیر اہتمام مسجد مرکز اسلامی، پٹنہ میں حج تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ بیتی کیمپ میں تجربہ کار حجاج کرام اور علماء نے عازمین حج کو حج کے جملہ مسائل اور طریقہ کار اور سفر حج سے واقف کرایا۔عازمین حج میں خواتین بھی شامل تھیں۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے حج کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی۔ حجاج کی تعدادمیں ہر سال ہو رہی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال صرف تقریباً ڈھائی ہزار عازمین حج مقدس سفر پر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوانی میں حج کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ پوری توانائی کے ساتھ وہ حج کے مناسک ادا کر سکیں۔
انہو ں نے کہاکہ عازمین حج کو حج کے کسی بھی مرحلے میں گھبرانا نہیں چاہئے کیوں کہ وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا بہترین میزبان ہے۔ شرط یہ ہے کہ خالص نیت کے ساتھ حج پر جایا جائے۔ حج کی نیت زبان کے ساتھ ساتھ دل کے اخلاص کے ساتھ بھی کرنی چاہئے۔
امیر حلقہ نے کہا کہ آپ انٹرنیشنل سفر پر جارہے ہیں، اس کا خیال رکھنا ہے۔ کوئی سیاسی گفتگو نہ کریں۔ ساتھ ہی سعودی حکومت کے قانون پر عمل کریں۔
مولانا رضوان احمد نے مشورہ دیا کہ عازمین حج ضرورت سے زیادہ سامان نہ لے جائیں اورپاسپورٹ، ٹکٹ، میڈیکل کارڈ، دوا، رقم سمیت دیگر ضروری دستاویزات کی حفاظت کریں۔
امیر حلقہ نے سفر میں درپیش کئی مسائل کا تذکرہ کیا اور ان کا حل پیش کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ آپ ایک بھاری رقم اور چالیس بیالیس دن پر مشتمل سفر کر رہے ہیں۔ آپ اپنے وقت اور رقم کا حصول کرکے آئیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب آپ واپسی پر ایسے لوٹیں جیسے ماں کے پیٹ سے آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ آج آپنے نے اپنی جنت کنفرم کرالی ہو۔
مولانا رضوان احمد نے بتایا کہ حج کوئی رسمی عبادت نہیں ہے، بلکہ روحانی انقلابی عبادت ہے جس میں طواف، سعی، قیام منی، وقوف عرفہ و مزدلفہ اور رمی جمرات شامل ہیں۔ ان تمام اعمال کو ان کی حقیقی روح کے ساتھ ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ احرام عاجزی وانکساری کا لباس ہے۔ حج کے بعد حاجی کی زندگی میں سادگی، عاجزی اور انکساری پیدا ہونی چاہئے۔ کیمپ کی زندگی بتاتی ہے کہ ہماری کیا حیثیت ہے۔ ہمیں حرص و ہوس میں پڑنے کی بجائے قناعت پسند ہونا چاہئے۔ ضرورت پڑنے پر دین کے لئے محل اور بلڈنگ چھوڑ کر کیمپ کی زندگی گزاریں گے۔ رمی جمرات کرنے کے ساتھ ساتھ نفس کے شیطان کو مارنے اور سماج میں شیطانی نظام کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہونے کا عزم کرنا چاہئے۔ طواف کرتے ہوئے یہ جزبہ لے کر آنا چاہئے کہ ہماری زندگی اطاعت الہی کے ارد گرد چکر لگائے گی۔ سعی کرتے ہوئے یہ تصور راسخ کرنا چاہئے کہ اللہ کے دین کی اقامت کے لئے اپنے ملک، محلہ اور شہر میں سعی کریں گے۔ حج کا عالمگیر اجتماع دیکھ کر یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے کہ ہمیں اپنے محلہ اور شہر میں اجتماعی زندگی گزارنا ہے۔ نزول قرآن کے مقامات سے یہ سبق لینا چاہئے کہ ہمیں قرآن پڑھنا اور قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے۔
مولانا رضوان احمد نے مدینہ اور مدینہ کے مقامات مقدسہ کے تذکرے اور فضائل بھی بیان کئے اور بتایا کہ مدینہ سے لوٹنے کے بعد عشق نبیؐ اور محبت رسولؐ میں ڈوب کر ہمیں عزم کرنا چاہئے کہ رسول اللہ ؐ کی ایک ایک سنت پر عمل پیرا ہوں گے اور رسول اللہ ؐ کی دی ہوئی تعلیمات کو فرد اور معاشرے کی زندگی میں رائج کریں گے۔
امیر حلقہ کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں سوالوں کے تشفی بخش جواب دئیے گئے۔
اس سے قبل انجینئر حامد اختر نے تفصیل سے حج کے عملی طریقے اور حج کی اہمیت و روح پرموثر پرزنٹیشن دیا اور ایک ایک مناسک پر روشنی ڈالی۔
جماعت اسلامی ہند،بگ سیٹی پٹنہ کے ناظم شہر لئیق الزماں نے آخر میں اظہار تشکر کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر نسیم اختر نے کی۔
