پٹنہ: 10 اگست، 2026
’ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں میں اگر جرأت نہ ہوں تو اس خصوصیت کی امید معاشرے کے دوسرے طبقے سے نہیں کرنی چاہئے۔‘ یہ باتیں ادارہ ادب اسلامی ہند، بہار کے زیر اہتمام اتوار کو مرکز اسلامی،پٹنہ میں منعقد ایک روزہ ادبی و تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ ادب اسلامی ہند، کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹرخالد مبشر نے کہیں۔
ڈاکٹر مبشر نے کہا کہ ادب کو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ انسانیت کو موت سے زندگی اور تاریکی سے روشنی کی طرف لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں ادارہ ادب اسلامی سے وابستہ لوگوں کو آزمائش کے لئے تیار رہنا چاہئے کیوں کہ ہم عظیم ترین اور اعلیٰ نصب العین سے تعلق رکھتے ہیں۔‘
ڈاکٹر مبشر نے نئے قلم کاروں کی تربیت اور خواتین کو ادب اسلامی سے جوڑنے پر زور دیا۔انہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ادب پر بھی گودی میڈیا کے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ اسلامی ادب کا سب سے بڑا شاہکار قرآن مجید ہے اور اسلامی ادب کی بنیاد قرآن کے نزول کے ساتھ ہی پڑ گئی تھی۔ قرآن نے اس وقت کے جاہلی ادب کو چیلنج بھی کر دیا کہ اس قرآن جیسی کوئی سورہ لے آؤ۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف پیغمبر محمد ﷺ کا ادبی معیار بہت بلند تھا، وہیں دوسری طرف آپ ؐ کی زبان بے حد سادہ اور سلیس تھی۔ عرب کے دو قبائل قریش اور بنو ہوازن عربی ادب کے آفتاب و مہتاب تھے۔ جہاں شعر سورج اور ہوا کی طرح ضروریات زندگی میں شمار ہوتا تھا۔ انہی دو قبیلے میں آپ ؐ کا بچپن گزرا۔ یہیں آپ ؐ کی زبان و ادب کی نشوو نماہوئی۔
مولانا رضوان احمد نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نئی نسل اردو زبان و ادب سے دور ہو رہی ہے۔اگرچہ اردو ہماری مادری زبان ہے اور عربی کے بعد ہماری تہذیب اور دینی وراثت کا سب سے بڑا سرمایہ اردو زبان میں ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو کو اس طرح رائج کیا جائے کہ انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں پڑھنے کے باوجوداردو سے بچوں کی وابستگی برقرار رہے۔
مولانا رضوان احمد نے ادارہ ادب اسلامی ہند، بہار کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا کہ وہ ادارہ کے نصب العین سے بہار کے تمام 38 اضلاع میں نئی نسل کو متعارف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ہمارا تعلق قرآن، حدیث اور سیرت نبویؐ سے نہیں ہے تو ہم ادب اسلامی کو فروغ نہیں دے سکتے۔
جماعت اسلامی ہند، بہار کے سکریٹری حلقہ نثار احمد نے اس موقع پر ادارہ ادب اسلامی کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ادارہ ادب اسلامی کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔بہار میں اپریل 1984 سے یہ ادارہ ادبی محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ فی الحال ریاست کے گیارہ اضلاع— پٹنہ، ارریہ، سمستی پور، بیتیا، مظفرپور، دربھنگہ، سہسرام، بیگوسرائے، چمپارن، گیااور نالندہ میں اس کی سرگرم شاخیں قائم ہیں۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر نسیم اختر نے کی۔
ادارہ ادب اسلامی ہند، بہار کی تشکیل نو
اس موقع پرسال 2025 سے 2029 کے لئے ادارہ ادب اسلامی ہند، بہار کی تشکیل نو ہوئی۔ کل 32 اراکین نے چھ رکنی مجلس عاملہ کی تشکیل میں حصہ لیا۔ عذیر انجم صدر، ڈاکٹر نسیم اختر اور شہادب الدین قاسمی نائب صدرو، کامران غنی صباسکریٹری، ڈاکٹر نعمان قیصر اور پروفیسر قمرالزماں قمر جوائنٹ سکریٹری اور حامد حسین ندوی خازن منتخب کئے گئے۔اس موقع پردہی سے تشریف لائے ا دارہ ادب اسلامی ہند کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر خالد مبشر اور نائب صدر مولانا ضیا ء الرحمٰن مدنی موجود تھے۔
مشاعرہ
شام کو ادارہ ادب اسلامی ہند، بہارکی جانب سے مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت معروف ادیب و شاعر جناب شفیع مشہدی نے کی۔ مشاعرے کی نظامت معروف نوجوان شاعر کامران غنی صبا نے کی۔ مشاعرے میں کثیر تعداد میں اہل علم نے شرکت کی۔ جن شاعروں نے نعتیہ کلام پیش کئے ان میں عطا عابدی، احمد شاذ قادری،ڈاکٹر نعمان قیصر، نصر بلخی، مکرم حسین ندوی، ایمل ہاشمی مائل، ڈاکٹر عبدالودودقاسمی، مقیم دانش، جمال کاکوی، فصیح اختر فصیح، آزاد اظہر، بختیار التوحید، ضیاء الرحمان مدنی، حامد حسین ندوی، عبدالباری زخمی، آصف وکیل، ڈاکٹر قمرالزماں قمر، عذیر انجم اور سہیل ساحل شامل ہیں۔
صدر مشاعرہ شفیع مشہدی نے صدارتی کلمات کے طور پر چار مصرعے پڑھے۔
قریب شہ رگ جاں بھی ہے اور دور بھی ہے وہی خالق کل اور سراپا نور بھی ہے
قریب اتنا بھی ہم دیکھ بھی نہیں سکتے حجاب اس کا یہی شدت ظہور بھی ہے
حمد کے ان چار مصرعوں میں دراصل باری تعالیٰ کا حسیں اور دلنشیں تعارف کرایا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے—’اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔‘ (سورہ حدید، آیت۔ 4)
دوسری آیت ہے—نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں مگر وہ ہر نگاہ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ نہایت باریک بیں، ہر بات سے باخبر ہے۔ (سورہ انعام۔103)
بلا شبہ یہ حقیقت اس مصرعہ میں سمٹ آٰٗئی ہے— حجاب اس کا یہی شدت ظہور بھی ہے۔




