پٹنہ: 11 مئی، 2026
’پیغمبرانہ مشن کا احیا آج سب سے زیادہ ضروری ہے کیوں کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو نفرت اور اسلاموفوبیا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم برادران وطن کے درمیان اسلام کی دعوت پیش کریں۔اس سے ہی حالات بہتر ہوں گے۔‘ یہ باتیں مسجد مرکز اسلامی، جماعت اسلامی ہند، پٹنہ میں اتوار کو’پیغمبرانہ مشن کے احیاء‘ کے عنوان پر لکچر دیتے ہوئے معروف عالمِ دین اور ممتاز ادیب پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کہیں۔
پروفیسر محسن عثمانی گزشتہ چند برسوں سے پیغمبرانہ مشن چلارہے ہیں۔اس کے تحت وہ مختلف ریاستوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ بہار کے دورہ پر تھے۔
لکچر کے دوران پروفیسر محسن عثمانی نے کہا کہ پیغمبرانہ مشن جیسی اہم ذمہ دارنی نبھانے کی وجہ سے ہی اللہ نے مسلمانوں کو ’خیر امت‘ کہا ہے۔ یہ ہمارے لئے رب کی طرف سے دیا گیا عظیم اعزاز ہے۔ اس کے باوجود ہم مسلمان خواب غفلت مین مبتلا ہیں اور اپنے پیغمبرانہ مشن جیسے فرائض منصبی سے بے توجہی برت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فعل سے اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچائیں۔ ہم اپنے اخلاق سے ان کا دل جیتیں۔ ہمدردی، نرمی، خلوص، ایمانداری، شفقت، محبت اور پیار سے ان کا دل جیت لینے کی ہر ممکن کوشش کریں تبھی وہ ہماری بات اور ہمارے ذریعہ لائے جانے والے اللہ کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی کام تمام پیغمبروں نے انجام دئیے۔ آدم ؑ سے لے کر آخری نبی حضرت محمد ؐ تک تمام انبیا کرام نے اپنی قوم کو یہی پیغام دیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس میں ہی تمہاری نجات ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند، بہا رکے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ قرآن کی دعوت اور رسول اللہؐ کے مشن کی بار بار تذکیر اور یاد دہانی کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی ہند روز اول سے حالا ت اور ملک کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ ترجیح اول اگر کسی کام کو حاصل ہے تو وہ یہ کہ مسلمان داعی امت کی حیثیت سے انسانوں کے بیچ جائیں اور اسلام کا پیغام اپنے قول اور عمل سے پیش کریں۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی دے دیں تب میں میں اس کام سے باز نہیں آؤں گا۔ افسوس کہ ہم مسلمان دنیا کے بہت سارے کام کرتے ہیں لیکن اس اہم انبیائی مشن کی طرف بہت کم متوجہ ہوتے ہیں۔
مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہ اکہ 2014 بعدملک عزیز میں اسلام اور مسلمان کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ ہوا ہے۔ آج اسلاموفوبیا سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ 2014سے پہلے مسلمانوں میں شاید ہی ارتداد کی آج جیسی خبریں ملتی تھیں۔ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار کی وجہ بھی یہی ہے کہ جب آدمی اصل مقصد، اصل مشن سے منحرف ہو جاتا ہے تو وہ لایعنی کام کرنے لگتا ہے۔اسے مسلک، لڑائی جھگڑے اور دوسری لایعنی باتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔
امیر حلقہ نے کہا کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ ہمارا جو مشن، مقصد زندگی اور فرض منصبی ہے اسے کما حقہ ادا کرنا ہوگا۔ مہمان محترم نے جو باتیں کہی ہیں، ان سے اختلاف کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہم یہ نہیں کرتے ہیں تو حالات نہیں بدلیں گے،بلکہ ہو سکتا ہے کہ حالات مزید خراب ہوں۔
تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ نظامت ڈاکٹر نسیم اختر نے کی۔ ناظم شہر لئیق الزماں کے اظہار تشکر کے ساتھ اجلاس کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔اجلاس کے آغاز میں غلام سرور ندوی نے تذکیر بالقرآن کیا جبکہ سلمان غنی نے حمد و نعت کا نذرانہ پیش کیا۔