پرامن اور پرسکون معاشرے کی تعمیر کے لئے پیغمبر محمد ؐ کی تعلیمات کو عام کرنا ضروری: مولانا رضوان احمد

filter: 0; fileterIntensity: 0.000000; filterMask: 0; captureOrientation: 0; hdrForward: 0; shaking: 0.002106; highlight: 1; algolist: 0; multi-frame: 1; brp_mask: 8; brp_del_th: 0.0000,0.0134; brp_del_sen: 0.1000,0.1000; delta:null; module: photo;hw-remosaic: false;touch: (-1.0, -1.0);sceneMode: 3145728;cct_value: 0;AI_Scene: (-1, -1);aec_lux: 0.0;aec_lux_index: 0;HdrStatus: auto;albedo: ;confidence: ;motionLevel: 0;weatherinfo: null;temperature: 35;

پٹنہ: 5 ستمبر، 2026

’ملک اور معاشرے میں پیدا ہوئیں تمام تر برائیوں کو دور کرنے اور ظلم و زیادتی کے ماحول کو ختم کرنے کے لئے پیغمبر محمد ؐ کی تعلیمات کو عام کرناضروری ہے۔‘ جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے جلسہ سیرت النبی ؐ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کسی ایک ایک خطے یا کمیونیٹی کے لئے نہیں، بلکہ سارے انسانوں کے لئے بھیجے گئے تھے اس لئے آپ ؐ کی زندگی پوری دنیا کے لئے رول ماڈل ہے۔
جماعت اسلامی، پٹنہ سنٹرل کی جانب سے جمعہ کو منعقد اس جلسے میں مرد و خواتین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
مولانا رضوان احمد نے کہا کہ عام طور سے ربیع الاول کے مہینے میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کرکے پیغمبر محمد ؐ کے تئیں عقیدت و محبت کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ باقی گیارہ مہینوں میں آپ ؐ کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں جس طرح کا بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، اس کے ازالے کے لئے پوری دنیا کو ایک اسوہئ نمونہ کی ضرورت ہے اور سیرت النبی ؐ کی صورت میں وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ضروت ہے اس کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے اور اسے عام کرنے کی ہے۔
امیر حلقہ نے کہا کہ ہماری زندگی کا ایسا کوئی شعبہ نہیں ہے جس میں سیرت النبیؐ سے رہنمائی نہ ملتی ہو،خواہ وہ سیاست ہو یا تجارت، نجی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،ملکی امور ہو یا بین الاقوامی امور، اخلاقی معاملہ ہو یا شرعی معاملہ۔ ہر شعبہ حیات میں صرف مسلمانوں کے لئے نہیں، بلکہ سارے انسانوں کے لئے وافر رہنمائی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ ’جو ظالم کے ساتھ چند قدم بھی چلتا ہے وہ ہم سے نہیں ہے‘، ’جو تجارت میں دھوکہ دے وہ ہم سے نہیں‘،’جس شخص کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں وہ مومن نہیں‘، ’ظالم کا ہاتھ پکڑ کر ظلم کے خاتمہ میں ظالم کی مدد کرو‘، ’حکمرانوں کو گالی نہ دو، ان کی اصلاح کرو۔ اگر وہ سدھر جائیں گے تو تمہارے معاملات سدھر جائیں گے‘۔
مولانا رضوان احمد نے کہا کہ پیغمبر محمد ؐنے سب سے زیادہ خواتین کے ساتھ احسان فرمایا۔ مردوں کے مقابلے میں ان کو بلند مقام عطا فرمایا۔ بد قسمتی کی بات ہے کہ آج خواتین کے سلسلے میں اسلام کی بدنام کیا جاتا ہے۔ آپ ؐ نے سود کو ختم کردیا۔ آپ ؐ کے وقت میں مردم شماری ہوئی، فور لین کاتصور آپ ؐ کے دور میں پیدا ہوا، تعلیمی بیداری چلاکر رہائشی اسکول قائم کرکے عملی نمونہ پیش کیا۔
امیر حلقہ نے کہا کہ مسلمانوں کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ نہ صرف نبی ؐ کی سیرت کا مطالعہ کریں، ان کے اسوہ کو اپنی زندگی میں اختیار کریں بلکہ برادران وطن کو بھی آپ ؐ کی زندگی کے مختلف گوشوں سے واقف کرائیں تاکہ جو غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں، وہ دور ہوں گی۔
جلسہ کی نظامت مولانا غلام سرورندوی نے کی۔