ہیٹ اسپیچ کے بیچ تما م مذاہب کے دھرم گرؤں نے دیا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام

پٹنہ: 19فروری، 2026
ملک میں طرف جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو مسموم کرنے کی کوششوں کے تحت نت نئے ہتھکنڈے اپنانے جا رہے ہیں، ہیٹ اسپیچ دئیے جار ہے ہیں، گھر واپسی کی بات کہی جارہی ہے، وہیں دوسری طرف تمام مذاہب کے دھرم گروایک پلیٹ فارم پر آکر اتحاد کا پیغام دے رہے ہیں۔ اس نوعیت کا ایک شاندار مظاہرہ بدھ کو گیا جی میں تب دیکھا گیا، جب سرو دھرم منچ بہار کے زیر اہتمام گیاجی واقع برہما کماری ایشوریہ وشوودیالیہ کے دفتر میں سرو دھرم سمیلن منعقد کیا گیا۔سمیلن میں تمام مذاہب کے دھرم گرؤں نے شرکت کی۔
اس موقع پر سرو دھرم منچ بہار کے کنوینر اور جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ کثرت میں وحدت ہندوستان کی خوبصورتی ہے۔ایک گھر میں والدین، بچے اور میاں بیوی ہوتے ہیں،سبھوں کی پسند الگ الگ ہوتی ہے۔ والدین شوگر کے مرض کی وجہ سے میٹھانہیں کھاتے ہیں جب کہ بچے میٹھا پسندکرتے ہیں۔ میاں کو مرچ اور تیکھی چیز پسند نہیں ہوتی ہے اور بیوی کو مرچ اورکھٹی چیز پسند ہے۔اتنے سارے اختلافات کے باوجود ایک کھر اور ایک گھر کے سارے فیملی ممبر س خوش وخرم زندگی بسرکرتے ہیں، سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں کہیں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا ہے۔
رضوان احمد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ آخر ایک ملک،ایک ریاست اور ایک شہر میں سارے شہری مل کر کیوں نہیں رہ سکتے؟سب ایک دوسرے کا احترام کیوں نہیں کرسکتے ہیں،جب کہ سارے انسان ایک ہی ماں اور باپ کی اولاد ہیں۔ اللہ نے سب کو ایک ہی ماں باپ سے پیدا کیا ہے،انسان اور انسان ہونے کے ناطے ان کے درمیان کوئی بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ سارے انسان قابل احترام ہیں۔
سرو دھرم منچ، بہار کے کنوینر نے کہا کہ انسان اپنے حقیقی دشمن شیطان کو پہچاننا چاہیے، شیطان اور شیطانی نظام کی وجہ سے آج نت نئے مسائل بڑھ رہے ہیں،مذہبی لوگوں اور اچھے لوگوں آگے انا چاہیے،سماجی اصلاحات اور برائیوں کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے، مختلف مذاہب میں جو مشترکہ قدرین ہیں اس کے فروغ کے مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔
ٓ بڑی پٹن دیوی مندر پٹنہ کے مہنت وجے شنکر گری نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ انسانیت ہمارا مشترکہ مذہب ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں، نفرت اور تعصب سے دور رہیں اور محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں تو معاشرے میں حقیقی ہم آہنگی قائم ہو سکتی ہے۔
ویشنوپدمندر گیا کے پنڈت راجا آچاریہ جی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سرودھرم منچ کا مقصد مذہب کو ٹھیک کرنا نہیں سماج کی اصلاح کرنا ہے، ہمیں سماجی اصلاحات پر کام کرنا چاہیے، سماج میں نت نئی برائیاں خاص کر نوجوانوں میں جنم میں لے رہی ہیں۔ اس کی اصلاح کے لیے ہمیں پنچائت پنچائت،محلہ محلہ جانا چاہیے۔شانتی اور امن وامان کو ترجیح حاصل ہونا چاہیے، گیا ایک پرامن ضلع ہے۔
آل انڈیاوکچھو سنگھ کے جنرسکریٹری ویکچھوپرگیا دیپ جی نے کہا کہ سرودھر منچ کی پہل قابل ستائش ہے،دھرم لوگوں کو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے، بھیدبھاؤ،اونچ نیچ کی تفریق ختم کرتا ہے۔
عیسائی مذہب کے نمائندے اور بہار دلت ویکاس سمیتی کے ذمہ دار فادر جوس نے انسانیت پر زور دیا اور کہا کہ اصل مذہب انسانیت ہے۔ ہمیں انسانیت کی تعمیر،ترقی اور تحفظ پر کام کرناہوگا ۔
جین کے دھر م کے نمائندے پردیپ جین نے کہا کہ جین دھر م میں جیو اور جینے دو کا اصول کارفرما ہے، میری سمجھ سے سارے مخلوقات خداوندی کے جان ومال کی حفاظت ہونی چاہیے، یہ دھرم کی بنیادی تعلیم ہے۔
کبیر پنتھی کے نمانندے اور مذہبی رہنماء مہنت برجیش مونی نے کہا کہ نفرت اور ظلم کے خلاف مذہب کو آگے آنا چاہیے۔ساری دنیا میں شانتی ہواس کی اشد ضرورت ہے۔
برہما کماری کی ذمہ دار بی کے شیلا جی نے روحانیت کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی اصل حقیقت یعنی روح کو پہچاننا چاہیے اور اپنے رب سے تعلق کومضبوط کرنا چاہیے۔ حقیقی سکون باہر نہیں،بلکہ اندرونی معرفت اور روحانی شعور سے حاصل ہوتا ہے۔ جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ ایک ہی خدا سب کا خالق اور پروردگار ہے تو اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور معاشرے میں اتحاد اور اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
بہار بودھ مندر پٹنہ کے سکریٹری بھنتے ادے بودھی نے امن وشانتی پرزور دیا اور سب دھر م کی کوششوں کی ستائش کی۔
سناتنی سکھ سبھاپٹنہ صاحب کے صدرترلوک سنکھ جی نے نے سروردھر منچ کا تعارف کرایا اور اس کے 8/مقاصد کو تفصیل سے بیان کیا۔انہوں نے منچ کے مقاصد میں آپسی محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا، مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ مکالمہ قائم کرنا، عام سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لئے عوام میں بیداری لانا، کمزور مذہبی اقلیتوں کے لئے کھڑا ہونا شامل ہیں۔
اس موقع پردھرم گرؤں نے پورے بہار کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سرو دھرم منچ، بہار کی مشترکہ کاوشوں سے بین المذاہب اتحاد، قومی یکجہتی اور عالمی امن کے فروغ کے تعلق سے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔
پروگرام میں مسلمان، ہندو، سکھ، جین، بودھ، عیسائی سمیت کئی مذاہب کے نہایت ہی تعلیم یافتہ اور معزز شخصیات موجود تھیں۔