جماعت اسلامی ہند کے وفد نے نورشید عالم سے کی ملاقات، حالت اب بھی نازک، انصاف کا مطالبہ

پٹنہ: 3 جنوری، 2026
جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے سپول کے رہنے والے محمد نورشید عالم کی مدھوبنی میں ہوئی ماب لنچنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے لاء اینڈ آرڈر کی ناکامی قرار دیا ہے۔ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے نورشید عالم سے ملاقات کرکے لوٹے جماعت اسلامی ہند، بہار کے وفد کے حوالے سے رضوان احمد نے بتایا کہ نورشید انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ محنت و مزدوری کرکے اپنے اہل خانہ کی پرورش کرتے ہیں۔ وہ راج مستری کا کام کرتے ہیں اور روزی روٹی کے لئے مدھوبنی ضلع کے وارڈ نمبر 44میں سرکاری نالے کے تعمیراتی کام میں لگے ہوئے تھے۔ نورشید کے ساتھ کچھ دوسرے مزدور بھی کام میں لگے ہوئے تھے۔ فرصت کے اوقات میں تمام مزدور ڈیرہ پرموجود تھے کہ اچانک چار پانچ لوگوں کا ہجوم آیا اور نورشید کی پٹائی کرنے لگا۔ دوسرے مزدوروں نے نورشید کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے دوسرے مزدوروں کو مارپیٹ کر بھگا دیا۔اس کے بعد مزید پندرہ بیس لوگ آ گئے اور و ہ نورشید کو کچھ دور گھسیٹ لے گئے جہاں کچھ لوگوں نے نورشید کو بچا لیا۔ بری طرح زخمی حالت میں نورشید کا علاج پورنیہ اسپتال میں ہوا۔ فی الحال نورشید اپنے گھر پر ہیں اور علاج چل رہا ہے لیکن ان کی حالت اب بھی نازک ہے۔
مولانا رضوان احمد نے کہاکہ مدھوبنی ضلع کے ایس پی یوگیندر پرساد نے واقعہ پر جو بیان دیا ہے، وہ مزید تشویش پیدا کرتا ہے۔ ایس پی نے کہا ہے کہ دو لوگوں نے نورشید کے ساتھ مارپیٹ کی جبکہ سچائی یہ ہے کہ کئی لوگوں نے نورشید کی لنچنگ کی، ان کے مذہبی تشخص کو پامال کیا۔ یہاں تک کہ نورشید کو بنگلہ دیشی کہا گیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آوروں کے ذہن میں ایک غریب مسلمان کے لئے کتنی نفرت بھر ی ہوئی تھی۔
امیر حلقہ نے کہا کہ نورشید عالم بنگلہ بولتے ہیں۔ بنگلہ بولنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخٰص بنگلہ دیشی ہے۔ سپول، ارریہ، پورنیہ، کٹیہار اور کشن گنج کے لوگ بڑی روانی سے بنگلہ بولتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سبھی بنگلہ دیشی ہیں۔
امیر حلقہ نے کہا کہ حال کے دنوں میں ماب لنچنگ اور مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے والے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں اطہر حسین کی لنچنگ ہوئی ہے۔ موجودہ سرکار میں یہ دوسرا واقعہ رونما ہوا ہے۔ یہ ریاستی حکومت کے لئے انتہائی تشویش کا مقام ہے۔ حکومت کو چاہئے وہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کو واضح پیغام دے کہ انہیں کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔
رضوان احمد نے مطالبہ کیا کہ تمام قصورواروں کو جلد سے جلد گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نورشید عالم کو حکومت بہار معقول معاوضہ دے تاکہ نورشید اپنے علاج کے ساتھ ساتھ اہل و عیال کی پرورش کر سکیں۔
امیر حلقہ نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند، بہارکی طرف سے فوری طور پر نورشید کی مالی امداد کی گئی ہے۔ آئندہ بھی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔